حدیث نمبر: 11945
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى الشَّامِ وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ قَالَ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بُعِثَ عَلَيْكُمْ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ“ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبدالملک بن عمیر سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کرکے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام کا عامل مقرر کیا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس امت کے امین اور انتہائی قابل اعتماد آدمی کو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور اپنے خاندان کا بہترین فرد ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور فتح کو لازم ملزوم قرار دیا ہے اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی ان فتوحات کے سلسلے کی وجہ سے بعض لوگ اس فتنے میں مبتلا ہو گئے کہ اگر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی قیادت موجود ہے تو فتح یقینی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی راسخ توحید نے یہ تقاضا کیا کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے لوگوں کو یہ سبق دیا جائے کہ فتح اور مدد صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب کے سیدنا خالد بن ولید کو معزمل کرنے کی وجہ کیا تھی، اس بارے ایک رائے ہمارے فاضل
محققn نے ذکر کی ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے شاندار بحث دیکھیں تاریخ اسلام جلد اوّل (ص ۳۸۳ تا ۲۸۶) از اکبر شاہ نجیب آبادی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11945
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير : 3825، وفي الاوسط : 5811 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16947»