حدیث نمبر: 11944
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ“ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَؤُمَّنَا فَأَمَّنَا حَتَّى مَاتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو بختری سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ آپ اس امت کے امین یعنی انتہائی قابل اعتماد آدمی ہیں۔ تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آدمی سے آگے کیسے بڑھ سکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ ہماری امامت کرائیں، پھر انھوں نے اپنی وفات تک ہماری امامت کرائی۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی مراد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے، جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوںکو امامت کروائیں۔
یہ روایت تو ضعیف ہے، سقیفہ بنو ساعدہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ رائے پیش کی تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی ایک کی بیعت کی جائے، لیکن ان کے جواب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خود سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حق میں رائے دی اور ان کی بیعت کر لی، ان کے بعد لوگوں نے ان کی بیعت کرنا شروع کر دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11944
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو البختري سعيد بن فيروز لم يدرك عمر، اخرجه الحاكم: 3/ 267 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 233»