حدیث نمبر: 11942
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ وَغَيْرِهِمَا قَالُوا لَمَّا بَلَغَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَرَغَ حُدِّثَ أَنَّ بِالشَّامِ وَبَاءً شَدِيدًا قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ شِدَّةَ الْوَبَاءِ فِي الشَّامِ فَقُلْتُ إِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ حَيٌّ اسْتَخْلَفْتُهُ فَإِنْ سَأَلَنِي اللَّهُ لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينًا وَأَمِينِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ“ فَأَنْكَرَ الْقَوْمُ ذَلِكَ وَقَالُوا مَا بَالُ عُلْيَا قُرَيْشٍ يَعْنُونَ بَنِي فِهْرٍ ثُمَّ قَالَ فَإِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَقَدْ تُوُفِّيَ أَبُو عُبَيْدَةَ اسْتَخْلَفْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَإِنْ سَأَلَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ قُلْتُ سَمِعْتُ رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ الْعُلَمَاءِ نَبْذَةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

شریح بن عبید اور راشد بن سعد وغیرہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سرغ کے مقام تک پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ سر زمین شام میں شدید قسم کی وباء پھوٹ پڑی ہے،انہوں نے لوگوں سے کہا: مجھے اطلاع ملی ہے کہ شام میں شدید وبا پھیل گئی ہے، میں نے سوچا ہے کہ اگر مجھے موت نے آلیا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ زندہ رہ گئے تو میں ان کو اپناخلیفہ نامزد کر کے جاؤں گا، اگر اللہ نے مجھ سے پوچھا کہ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر ان کو خلیفہ نام زد کیوں کیا تو میں جواب دوں گا کہ میں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ ہر نبی کا ایک قابل اعتماد آدمی ہوتا ہے اور میرا قابل اعتماد آدمی ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہے۔ لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات کا انکار کرتے ہوئے کہا: قریش کے اشراف کا کیا بنے گا، ان کی مراد بنو فہر کے لوگ تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے بعد موت آئی تو میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کروں گا، اگر میرے رب عزوجل نے مجھ سے دریافت کیا کہ تو نے ان کو خلیفہ نامزد کیوں کیا تو میں کہوں گاکہ میں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ معاذ قیامت کے دن اہل علم کے آگے آگے جائیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، ان کا نام عامر بن عبداللہ بن جراح ہے، ساتویں پشت میں فہر بن مالک پر جا کر ان کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب سے جا ملتا ہے، یہ عشر مبشرہ میں سے ہیں، قدیم الاسلام ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بدر اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو امین الامہ کے لقب سے نوازا ہے،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت میں ان کی طرف سے سر زمین شام کے عامل تھے اور وہیں (۱۸) سن ہجری میں (۵۸)سال کی عمر میںطاعون عمواس کے دوران وفات پائی۔
امین سے مراد وہ قابل اعتماد آدمی ہے، جس پر اعتبار کیا جائے، سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا امانت کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ وصف ان میں بدرجۂ اتم پایا جاتا تھا، جیسا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر شرم و حیا سے متصف تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11942
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، اخرجه بنحوه الحاكم: 3/ 268، واحمد في الفضائل : 1285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 108 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 108»