حدیث نمبر: 11940
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يُكْثِرُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُفْطِرُ إِلَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مَرَضٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو گئی تو پھر تو وہ صرف سفر یا بیماری کی وجہ سے ہی روزے کا ناغہ کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … قابل توجہ بات ہے کہ صحیح بخاری کی روایت میں اس روایت کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں: کَانَ أَبُوْطَلْحَۃَ لَا یَصُوْمُ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ اَجْلِ الْغَزْوَ۔ (سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جہاد کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں روزہ نہیں رکھا کرتے تھے)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسند احمد کی اس حدیث کے الفاظ یُکْثِرُ دراصل لَایُکْثِرُ تھے، لَا ساقط ہو گیا،یعنی سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ عہدِ نبوی میں جہادی مصروفیات کی وجہ سے زیادہ روزے نہیں رکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11940
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2828 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12039»