الفتح الربانی
— کنیت
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِي باب: سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11937
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”صَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ“ قَالَ وَكَانَ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْحَرْبِ ثُمَّ يَنْثُرُ كِنَانَتَهُ وَيَقُولُ وَجْهِي لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لشکر میں ابوطلحہ اکیلے کی آواز پوری جماعت کی آواز سے بہتر ہے۔ جنگ کے دوران سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جاتے اور اپنے تر کش کے تیروں کو بکھیر دیتے اور کہتے: اے اللہ کے رسول! میرا چہرہ آپ کے چہرے کو بچانے والا ہے اور میری جان آپ کے لیے فدا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز میں رعب اور دبدبہ تھا، جس سے دشمن سہم جاتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ واقعی کسی جنگجو کی آواز آ رہی ہے۔