حدیث نمبر: 11926
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ثَلَاثِينَ رَاكِبًا قَالَ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا قَالَ فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ قَالَ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا وَلَكِنْ لَا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا شَيْئًا قَالُوا فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً قَالَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ فَبَرَأَ وَفِي لَفْظٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ قَالَ فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ قَالَ عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا قَالَ فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ أَصْحَابِي لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ”أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ“ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ ”كُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ“ قَالَ قُلْتُ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تیس سوار مجاہدین کو ایک سریّے میں بھیجا، ہم عرب کی ایک قوم کے پاس سے اترے اوران سے میزبانی کا اپنا حق طلب کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، ہوا یوں کہ ان کے ایک سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اورکہنے لگے کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی ڈسنے کا دم کر لیتا ہے، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں میں کرلیتا ہوں، لیکن میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم ہمیں کچھ عطا نہیں کروگے، انہوں نے کہا: ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس پر سورۂ فاتحہ پرھنی شروع کی اور سات مرتبہ پڑھی،اپنی تھوک جمع کرتا اور پھر اس پر تھوک دیتا، پس وہ تندرست ہوگیا اور انہوں نے تیس بکریاں دے دیں، جب ہم نے وہ بکریاں اپنے قبضے میں لے لیں، تو ہمیں شک ہو نے لگا (کہ پتہ نہیں یہ ہمارے لئے حلال بھی ہیں یا کہ نہیں)۔سو ہم ان پر کوئی کاروائی کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کر لیں۔ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے کیسے جانا کہ یہ دم ہے! ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی حصہ مقرر کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو خود بھی کھا اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلا، بھلا تجھے کیسے پتہ چلا تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: جی بس میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11926
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2276، 5749، ومسلم: 2201 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11086»