الفتح الربانی
— کنیت
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي زَيْدِ الْأَنْصَارِيِّ وَاسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدناابوزیدانصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
حدیث نمبر: 11922
حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَبَا زَيْدٍ ادْنُ مِنِّي وَامْسَحْ ظَهْرِي“ وَكَشَفَ ظَهْرَهُ فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ وَجَعَلْتُ الْخَاتَمَ بَيْنَ أَصَابِعِي قَالَ فَغَمَزْتُهَا قَالَ فَقِيلَ وَمَا الْخَاتَمُ قَالَ شَعَرٌ مُجْتَمِعٌ عَلَى كَتِفِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو زید! تم میرے قریب ہو جاؤ اور میری پشت پر ہاتھ پھیرو۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر ہاتھ پھیرا اور مہر نبوت کو میں نے اپنی انگلیوں میں لے لیا اور اسے دبا کر دیکھا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ مہر کیسی تھی؟ انھوں نے کہا: وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر تھی اور اس پر بال اُگے ہوئے تھے۔