الفتح الربانی
— کنیت
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي زَيْدِ الْأَنْصَارِيِّ وَاسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدناابوزیدانصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
عَنْ عَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَفِيهِ شَعْرَةٌ فَرَفَعْتُهَا ثُمَّ نَاوَلْتُهُ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ“ قَالَ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ سَنَةً وَفِي رِوَايَةٍ فَرَأَيْتُهُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ شَعْرَةٌ بَيْضَاءُ۔ ( تیسری سند)سیدنا ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب فرمایا، میں آپ کی خدمت میں پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا، اس میں پانی اور ایک بال تھا، میں نے بال نکال دیا اور پانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یوں دعا دی: یا اللہ! اسے خوبصورت بنا دے۔ راوی کہتا ہے: میں نے ابو زید رضی اللہ عنہ کو (۹۳) سال کی عمر میں اور دوسری روایت کے مطابق (۹۴)سال کی عمر میں دیکھا کہ ان کے سر اور داڑھی میں ایک بھی سفید بال نہ تھا۔