الفتح الربانی
— کنیت
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي ذَرِّ الْغَفَّارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِصَّةِ إسلامه باب: سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
حدیث نمبر: 11912
وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُ حِينَ يَرَوْنَهُ قَالَ قُلْتُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَا يُفِرُّ النَّاسَ قَالَ إِنِّي أَنْهَاهُمْ عَنِ الْكُنُوزِ بِالَّذِي كَانَ يَنْهَاهُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
احنف بن قیس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ ایک آدمی کو دیکھتے تو اس سے دور بھاگ جاتے، میں نے اس آدمی سے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس نے بتلایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر کیوں بھاگ جاتے ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ میں ان لوگوں کو وہ خزانے یعنی مال و دولت جمع کرنے سے روکتا ہوں، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا تھا۔