الفتح الربانی
— کنیت
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ صَحِبْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَعَلَّمُ مِنْهُ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ آذِنْ النَّاسَ بِمَوْتِي فَآذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِهِ فَجِئْتُ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ قَالَ فَقُلْتُ قَدْ آذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِكَ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ قَالَ أَخْرِجُونِي فَأَخْرَجْنَاهُ قَالَ أَجْلِسُونِي قَالَ فَأَجْلَسْنَاهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُتِمُّهُمَا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ مُعَجَّلًا أَوْ مُؤَخَّرًا“ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِلْمُلْتَفِتِ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرِيضَةِسیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حصول علم کے لیے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: تم لوگوں کو میری وفات کی اطلاع کردو۔ میں نے لوگوں کو ان کی وفات کی اطلاع دی، میں واپس آیا تو ان کا گھر اور ارد گرد کے مقامات لوگوں سے بھرے تھے، میں نے جا کر ان سے عرض کیا: میں نے لوگوں کو آپ کی وفات کی اطلاع دی اورگھر اور اردگرد کے مقامات لوگوں سے بھر گئے ہیں۔ انھوں نے مجھے کہا: تم مجھے باہر لے چلو، ہم ان کو باہر لے گئے۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھا دو، ہم نے ان کو بٹھا دیا۔ انہوں نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی اچھی طرح مکمل وضو کرکے مکمل دو رکعت نماز ادا کرے تو وہ اللہ سے جو بھی دعا کرے، اللہ اسے جلد یا بدیر اس کی مطلوبہ چیز ضرور عطا فرمائے گا۔ پھر انھوں نے کہا: لوگو! نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھا کرو، جو کوئی ادھر ادھر دیکھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی، اگر نفل نماز میں اس کی ضرورت پیش آ جائے تو خیر، مگر فرض نماز میں اس کی گنجائش نہ نکالا کرو۔