الفتح الربانی
— کنیت
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي أَبُوبَ الْأَنْصَارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ظِبْيَانَ وَيَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ قَالَ غَزَا أَبُو أَيُّوبَ الرُّومَ فَمَرِضَ فَلَمَّا حُضِرَ قَالَ أَنَا إِذَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي فَإِذَا صَافَفْتُمُ الْعَدُوَّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَالِي هَذَا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ“ابو ظبیان سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ روم کے خلاف ایک غزوۂ میں شریک تھے اور وہاں بیمار پڑ گئے، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے کہا: جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جانا، جہاں دشمن سامنے آجائے تم مجھے وہیں اپنے قدموں کے نیچے دفن کر دینا، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث سناتا ہوں۔ اگر میں اس حال میں (یعنی اس مرض الموت میں ) نہ ہوتا تو میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں جائے گا۔