حدیث نمبر: 119
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَخِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمَّنَا مُلَيْكَةَ كَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ هَلَكَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: ((لَا)) قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: ((الْوَائِدَةُ وَالْمَوْؤُودَةُ فِي النَّارِ إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ فَيَعْفُوَ اللَّهُ عَنْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی، ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہماری اماں جان ملیکہ صلہ رحمی کرتی تھی، مہمانوں کی میزبانی کرتی تھی اور اس قسم کی کئی نیکیاں کرتی تھی، لیکن دورِ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئی ہے، تو کیا یہ اعمال اسے فائدہ دیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ہم نے کہا: ”اس نے دورِ جاہلیت میں ہی ہماری ایک بہن کو زندہ درگور کر دیا تھا، تو یہ چیز اس کو نفع دے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی، دونوں جہنمی ہیں، الا یہ کہ درگور کرنے والی اسلام کو پا لے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے۔“

وضاحت:
فوائد: … کفر کی حالت پر مرنے والے کی تمام نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 119
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين غير داود بن ابي هند فمن رجال مسلم، وصحابيه روي له النسائي، وفي متنه نكارة ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 11649، والطبراني في الكبير : 6319 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16019»