الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي كَوْنِ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَكَذَا الْهِجْرَةُ وَ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ وَ بَيَانُ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ باب: اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَخِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمَّنَا مُلَيْكَةَ كَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ هَلَكَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: ((لَا)) قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: ((الْوَائِدَةُ وَالْمَوْؤُودَةُ فِي النَّارِ إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ فَيَعْفُوَ اللَّهُ عَنْهَا))سیدنا سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی، ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہماری اماں جان ملیکہ صلہ رحمی کرتی تھی، مہمانوں کی میزبانی کرتی تھی اور اس قسم کی کئی نیکیاں کرتی تھی، لیکن دورِ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئی ہے، تو کیا یہ اعمال اسے فائدہ دیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ہم نے کہا: ”اس نے دورِ جاہلیت میں ہی ہماری ایک بہن کو زندہ درگور کر دیا تھا، تو یہ چیز اس کو نفع دے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی، دونوں جہنمی ہیں، الا یہ کہ درگور کرنے والی اسلام کو پا لے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے۔“