حدیث نمبر: 11898
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ ابْنِ الْأَسْوَدِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ أَنَا صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} وَلَكِنْ نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ يَسَارِكَ وَمِنْ بَيْنِ يَدَيْكَ وَمِنْ خَلْفِكَ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشْرِقُ وَسَرَّهُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو ایک موقع پر ایسی بات کرتے سنا ہے کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ کاش وہ فرد میں ہوتا اوراس کے عوض ہر وہ چیز دے دیتا، جس کو اس کے برابر سمجھا جاتا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکین کے خلاف بد دعا کر رہے تھے، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ :{اِذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُکَ فْقَاتِلَا اِنّا ھَھُنَا قَاعِدُوْنَ} … آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۲۴) بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہر طرف سے (آپ کے دفاع میں) لڑیں گے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر از حد خوش ہوئے اور میں نے آپ کے چہر ہ مبارک کو خوشی سے دمکتا دیکھا۔

وضاحت:
فوائد: … چونکہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی اس بات کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت خوش ہوئے تھے، اس لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ خواہش کرتے تھے کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس خوشی کا سبب بننے والے وہ ہوتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11898
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3952 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4070»