حدیث نمبر: 11897
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً أَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أُحِبَّهُمْ“ قَالُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِنَّ عَلِيًّا مِنْهُمْ وَأَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ میرے چار صحابہ سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتلایا ہے کہ وہ ان سے محبت رکھتا ہے اور مجھے حکم بھی دیا ہے کہ میں بھی ان سے محبت رکھوں۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی، ابو ذر غفاری، سلمان فارسی اور مقداد بن اسود کندی ۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ٔرسول ہیں، ان کے باپ کا نام عمرو تھا، یہ اسود کی زیر تربیت رہے اور انھوں نے ان کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا، اس وجہ سے یہ ان ہی کی طرف منسوب ہونے لگے۔مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے جن سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا تھا، ان میں ایک سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے، انھوں نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی، پھر مکہ مکرمہ لوٹ آئے اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں (۳۳) سن ہجری میں انھوں نے وفات پائی، جبکہ ان کی عمر ستر برس تھی اور ان کو بقیع قبرستان میں دفن کیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11897
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو ربيعة الايادي، قال ابو حاتم: منكر الحديث، وتساھل ابن معين فوثّقه، وقال ابن حجر: مقبول، وشريك النخعي سييء الحفظ، اخرجه الترمذي: 3718،وابن ماجه: 149 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23356»