الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاوِيَةَ بن أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11890
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ”هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ“ ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ ہمیں ماہ رمضان میں سحری کے لیے بلانے کے لیے فرماتے: بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔ پھر میں نے ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ یا اللہ! معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھنے پڑھنے اور حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا معاویہ بن ابی سفیان بن صخر بن حرب رضی اللہ عنہ مشہور صحابیٔ رسول ہیں، ان کی ماں سیدہ ہند بنت عتبہ ہیں۔ یہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں، فتح مکہ کے موقع پر سیدنا معاویہ، ان کے باپ، ان کی ماں اور ان کے بھائییزید مشرف باسلام ہوئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ غزوۂ حنین میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاتبین میں سے ایک تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے سیدنایزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو شام کا والی بنایا، لیکن جب وہ (۱۶، ۱۷) سن ہجری میں فوت ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بھائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا والی بنایا اور یہ عہد ِ فاروقی میں اس علاقے کے والی رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو برقرار رکھا، بلکہ پورا شام ان کو دے دیا، اور انھوں نے (۲۷) سن ہجری میں جزیرۂ قبرص کو فتح کیا۔
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کو خون ریزی سے بچانے کے لیے (۴۱) سن ہجری میں خلافت سے دستبرداری کا اعلان کیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بطورِ امیر المؤمنین بیعت کی گئی، پھر یہ منصب ان کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ یہ (۶۰) سن ہجری میں فوت ہو گئے، ان کی ولایت کی مدت بھی بیس برس تھی اور خلافت کا عرصہ بھی بیس برس تھا۔
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم خیالوں کا جو رویہ رہا، ہم اس کو اِن کی اجتہادی خطا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب سے راضی ہو جائے۔
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کو خون ریزی سے بچانے کے لیے (۴۱) سن ہجری میں خلافت سے دستبرداری کا اعلان کیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بطورِ امیر المؤمنین بیعت کی گئی، پھر یہ منصب ان کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ یہ (۶۰) سن ہجری میں فوت ہو گئے، ان کی ولایت کی مدت بھی بیس برس تھی اور خلافت کا عرصہ بھی بیس برس تھا۔
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم خیالوں کا جو رویہ رہا، ہم اس کو اِن کی اجتہادی خطا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب سے راضی ہو جائے۔