الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاذِ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ قَالَ خَطَبَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ ثُمَّ نَزَلَ مِنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ {الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ} [البقرة: 147] فَقَالَ مُعَاذٌ {سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ} [الصافات: 102]ابو منیب احدب سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطاب کیا اور طاعون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: طاعون تمہارے رب کی تم پر رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے ابو منیب احدب سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطاب کیا اور طاعون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: طاعون تمہارے رب کی تم پر رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالحین کی موت کا سبب ہے ۔ یا اللہ ! آل معاذ پر اس رحمت میں سے ان کا حصہ نازل فرما ۔ اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اتر کر اپنے بیٹے عبدالرحمن کے پاس آئے ، عبدالرحمن نے کہا : (الْحَقُّ مِنْ رَبَّکَ فَلا تَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِینَ) .... حق تمہارے رب کی طرف سے ہے ، پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو ۔ یہ سن کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : (سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللہُ مِنْ الصَّابِرِینَ) ....تم عنقریب مجھے صبر کرنے والوں میں پاؤ گے ۔
سیدنا معاذ طاعون میں مبتلا ہو گئے تھے، اس لیے آیات کی روشنی میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا ذکر درج ذیل حدیث میں ہے: سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ اُمَّتِیْ فِیْ سَبِیْلِکَ بِالْطَعْنِ وَالطَّاعُوْنِ۔)) … اے اللہ! میری امت کو اپنے راستے میں ہتھیار کے ساتھ قتل اور طاعون کے ذریعے فنا کرنا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۹۳)
اس حدیث میں امت سے سے مراد صحابۂ کرام کی جماعت ہے۔