الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاذِ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْيَمَنَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ أَجَشَّ الصَّوْتِ فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى حَثَوْتُ عَلَيْهِ التُّرَابَ بِالشَّامِ مَيِّتًا رَحِمَهُ اللَّهُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا قَالَ فَقُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلْ ذَلِكَ مَعَهُمْ سُبْحَةًعمرو بن میمون اودی سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عامل سیدنا معاذ بن جبل یمنی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں نے سنا کہ انہوں نے سحری کے وقت تیز اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہا ، ان کے دل میں میری محبت جاگزیں ہو گئی ، اور میں ان کی وفات تک ان سے جدا نہ ہوا اور میں نے عرض شام میں نے ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر مٹی ڈالی ، پھر میں نے غور نہ کیا کہ ان کے بعد زیادہ علم والا شخص کون ہے ؟ چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں چلا گیا ، انہوں نے مجھ سے کہا : تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا ، جب تمہارے حکمران نمازوں کو بے وقت یعنی تاخیر سے ادا کریں گے ؟ میں نے عرض کیا : اگر مجھے ایسے حالات کا سامنا ہو تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا : تم نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کر لینا اور ان کے ساتھ ادا کی ہوئی نماز کو نفل شمار کر لینا ۔