حدیث نمبر: 11887
عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْيَمَنَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ أَجَشَّ الصَّوْتِ فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى حَثَوْتُ عَلَيْهِ التُّرَابَ بِالشَّامِ مَيِّتًا رَحِمَهُ اللَّهُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا قَالَ فَقُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلْ ذَلِكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عامل سیدنا معاذ بن جبل یمنی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں نے سنا کہ انہوں نے سحری کے وقت تیز اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہا ، ان کے دل میں میری محبت جاگزیں ہو گئی ، اور میں ان کی وفات تک ان سے جدا نہ ہوا اور میں نے عرض شام میں نے ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر مٹی ڈالی ، پھر میں نے غور نہ کیا کہ ان کے بعد زیادہ علم والا شخص کون ہے ؟ چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں چلا گیا ، انہوں نے مجھ سے کہا : تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا ، جب تمہارے حکمران نمازوں کو بے وقت یعنی تاخیر سے ادا کریں گے ؟ میں نے عرض کیا : اگر مجھے ایسے حالات کا سامنا ہو تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا : تم نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کر لینا اور ان کے ساتھ ادا کی ہوئی نماز کو نفل شمار کر لینا ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11887
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22370»