الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَعْبِ بْنِ مَالِكِ الْأَنْصَارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْجِنِي إِلَّا بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ لَا أَكْذِبَ أَبَدًا وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكَ“ قَالَ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَسیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ نے مجھے سچ بولنے کی بدولت اس آزمائش سے نجات دی ہے، میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ میری توبہ قبول ہو جائے تو میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا اور میں اپنی ساری دولت اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے صدقہ کر دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنا کچھ مال رکھ لو، یہ تمہار ے لیے بہتر ہو گا۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر میں خیبر سے ملنے والا اپنا حصہ رکھ لیتا ہوں۔