الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فُرَاتَ بْنِ حَيَّانَ مِنْ بَنِي عَجَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا فَمَرَّ بِحَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ ”إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ“حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ وہ سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ قبل از اسلام ابو سفیان کے جاسوس اور (ایک انصاری آدمی کے) حلیف تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ انصار کے ایک حلقہ کے پاس سے گزرے اور انھوں نے کہا کہ میں مسلم ہوں۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں، جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، فرات بن حیان بھی ان میں سے ہیں۔
وَحَلِیفًا کے الفاظ ابو داود میں اس طرح ہیں: وَحَلِیفًا لِرَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ، ممکن ہے کہ مسند احمد کی روایت میں میں کاتب سے یہ الفاظ رہ گئے ہوں۔