الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عِمْرَانَ بْنِ الْحَصِينِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَرَضِهِ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْفَعُكَ بِهَا بَعْدِي وَاعْلَمْ أَنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَلَيَّ وَإِنْ مِتُّ فَحَدِّثْ إِنْ شِئْتَ وَفِي رِوَايَةٍ وَإِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ أَمْسَكَ عَنِّي فَلَمَّا تَرَكْتُهُ عَادَ إِلَيَّ وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَمطرف بن عبداللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انہوں نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا، جب میں ان کی خدمت میں آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: میں آپ کو احادیث سنایا کرتا تھا، امید ہے کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ ان احادیث سے فائدہ پہنچائے گا، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شدت مرض کے دوران میرے صبر کرنے کی وجہ سے اللہ کے فرشتے آکر مجھے سلام کہا کرتے تھے، اگر میں زندہ رہوں تو تم میری اس بات کا لوگوں کے سامنے اظہار نہ کرنا اور اگر میرا انتقال ہو جائے تو چاہو تو لوگوں کو بتلا دینا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، مگر جب میں نے اپنے زخم کو داغ لگوایا تو سلام کا یہ سلسلہ مجھ سے رک گیا، پھر جب میں نے اس عمل کو ترک کیا تو یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ تم یہ بھی جان رکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک ہی احرام میں جمع کیا تھا اور اس کے بعد نہ کتاب اللہ میں اس سے منع کیا گیا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس سے منع فرمایا، بس ایک آدمی اس بارے میں اپنی رائے سے اس سے منع کرتا ہے۔
اس حدیث کے آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جوحج افراد کو افضل سمجھتے تھے اور حج تمتع سے منع کیا کرتے تھے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا اور اس سے منع بھی نہیں کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کیاحق حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو اس سے منع کریں، حج کے مسائل میں یہ حکم اور اس کی وجہ گزر چکی ہے۔