الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَسَبَبٍ اسلامه باب: سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
حدیث نمبر: 11873
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَسْلَمَ النَّاسُ وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: (فتح مکہ کے موقع پر) لوگوں نے تو ظاہراً اسلام قبول کیا اور عمرو بن عاص نے (دلی طور پر ) ایمان قبول کیا۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ارشاد کے ذریعے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے اس عداوت کو زائل کرنا چاہتے تھے، جو ان کو قبولیت ِ اسلام سے قبل اسلام اور اہل اسلام سے تھی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں سیدناعمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مومن ہونے کی شہادت دی، جس کا لازمی نتیجہ جنت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا نَفْسٌ مُوْمِنَۃٌ۔)) … صرف مومن جنت میں داخل ہو گا۔
اس لیے عصرِ حاضر کے جو مخالفین سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ پر اس بنا پر طعن کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف بلکہ قتال کیا، ان کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے ایمان کی نفی نہیں ہوتی، جیسے ان کی بیان کردہ فضیلت سے ان کی عصمت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ کہنا بہتر ہے کہ سیدناعمرو رضی اللہ عنہ کا یہ اختلاف ان کے کسی اجتہاد کی وجہ سے تھا، نہ کہ خواہش پرستی کی وجہ سے۔ (صحیحہ: ۱۵۵)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں سیدناعمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مومن ہونے کی شہادت دی، جس کا لازمی نتیجہ جنت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا نَفْسٌ مُوْمِنَۃٌ۔)) … صرف مومن جنت میں داخل ہو گا۔
اس لیے عصرِ حاضر کے جو مخالفین سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ پر اس بنا پر طعن کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف بلکہ قتال کیا، ان کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے ایمان کی نفی نہیں ہوتی، جیسے ان کی بیان کردہ فضیلت سے ان کی عصمت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ کہنا بہتر ہے کہ سیدناعمرو رضی اللہ عنہ کا یہ اختلاف ان کے کسی اجتہاد کی وجہ سے تھا، نہ کہ خواہش پرستی کی وجہ سے۔ (صحیحہ: ۱۵۵)