الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کاتذکرہ
حَدَّثَنَا أَبُو الصَّخْرِ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّ يَحْيَى بْنَ النَّضْرِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ قَالَ أَتَى عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ أَمْشِي بِرِجْلِي هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ وَكَانَتْ رِجْلُهُ عَرْجَاءَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نَعَمْ“ فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ هُوَ وَابْنُ أَخِيهِ وَمَوْلًى لَهُمْ فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكَ تَمْشِي بِرِجْلِكَ هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ“ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا وَبِمَوْلَاهُمَا فَجُعِلُوا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍسیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں اپنی اس ٹانگ سے صحیح طور پر چل سکوں گا؟ دراصل وہ ایک ٹانگ سے لنگڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔۔ پھر وہ،ان کا بھتیجا سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ اور ان کا ایک غلام یہ تینوں غروۂ احد میں شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میں گویا دیکھ رہا ہوں کہ تو اپنی اس ٹانگ سے صحیح طور پر جنت میں چل رہا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تینوں کو ایک ہی قبر میں دفن کرنے کا حکم دیا۔