حدیث نمبر: 11859
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ مَرَّتَيْنِ عَلَى الْمَدِينَةِ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ مَعَهُ رَايَةٌ سَوْدَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرمایاتھا، میں نے قادسیہ کے دن ان کو دیکھا کہ وہ ایک سیاہ علم تھامے ہوئے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں،یہ نابینا تھے، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مؤذن ہونے کا شرف بھی حاصل رہا، اہل مدینہ ان کا نام عبد اللہ اور اہل عراق ان کا نام عمرو پیش کرتے ہیں،یہ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ماموں زاد تھے، یہ مہاجرین اولین میں سے ہیں، جنگ قادسیہ میں شہادت سے سرفراز ہوئے تھے، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ قادسیہ میں یہ مسلمانوں کے علم بردار تھے، ان کی وہاں شہادت نہیں ہوئی تھی،بلکہ قادسیہ سے واپس آنے کے بعد مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا تھا۔ واللہ اعلم۔ سورۂ عبس کی ابتدائی آیات ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی، نابینا ہونے کے باوجود جہاد کا جذبہ موجود تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11859
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 595 ، 2931 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12369»