حدیث نمبر: 11857
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَوِ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تا حیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپناعامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11857
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن عاص، اخرجه بنحوه النسائي في الكبري : 9274، والحاكم: 3/ 392 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17960»