حدیث نمبر: 11856
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَعَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكُمْ وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي نَشَدْتُكُمُ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ لَأَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ يَعْنِي عَمَّارًا أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّهْرَ هَكَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اصْبِرْ“ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سمیت کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کوبلوایا اور کہا: میں تم سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ تم مجھ سے سچ سچ بات بیان کر دو، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی چیز دینے میں قریش کو دوسرے لوگوں پر ترجیح دیا کرتے تھے؟ اور قریش میں سے بنو ہاشم کو ترجیح دیا کرتے تھے؟ یہ سن کر لوگ خاموش رہ گئے۔سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر جنت کی چابیاں میرے ہاتھ میں آجائیں تو میں چابیاں بنو امیہ کو دے دوں یہاں تک کہ یہ سب لوگ جنت میں چلے جائیں ۔پھر انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کیا میں تمہیں اس (یعنی عمار رضی اللہ عنہ ) کے متعلق کچھ بیان کردوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ہم بطحاء میں چلتے آرہے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور اس کے ماں باپ کے پاس سے گزرے، انہیں قبول اسلام کی پاداش میں عذاب دیا جا رہا تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے والد (سیدنایاسر رضی اللہ عنہ ) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کب تک ہوتا رہیگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: صبرکرو۔ پھر فرمایا: یا اللہ! آل یاسر کی مغفرت فرما۔ (ویسے میں جانتا ہوں کہ) تو ان کی مغفرت کر چکا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … مغفرت کے باوجود مغفرت کا سوال کرنا، اس سے مراد مغفرت کا دوام، سوال کرنے والے کی عاجزی اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا شکر ادا کرنے کی طاقت نہ ہونا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11856
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، سالم بن ابي الجعد لم يدرك عثمان بن عفان، وقوله اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ له شواھد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 439»