حدیث نمبر: 11851
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ فَوَقَعَ فِي عَلِيٍّ وَفِي عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ أَمَّا عَلِيٌّ فَلَسْتُ قَائِلَةً لَكَ فِيهِ شَيْئًا وَأَمَّا عَمَّارٌ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يُخَيَّرُ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عطاء بن یسار سے مروی ہے کہ ایک آدمی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آیا اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں ناروا باتیں کرنے لگا۔سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جہاں تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات ہے تو میں ان کے بارے میں تجھ سے کچھ نہیں کہوں گی، البتہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا ہے کہ عمار کو جب بھی دو باتوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے تو انھوں نے زیادہ بہتر اور ہدایت والی بات کو منتخب کیا۔

وضاحت:
فوائد: … جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سامنے دو مؤقف رکھ دیئے جائیں تو وہ درست اور زیادہ ہدایت والے مؤقف کو اختیار کریں گے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد جب مسلمانوں کے دو گروہوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شریک ہونے کا مسئلہ پیدا ہوا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق درست مؤقف اختیار کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11851
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرجه الترمذي: 3799،وابن ماجه: 148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25331»