الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11850
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ: أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَى إِلَى نَاسٍ هَدَايَا فَفَضَّلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمرو بن دینار مصر کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتا تھا کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی خدمت میں تحائف بھیجے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو زیادہ اور قیمتی تحفے بھیجے، اس بارے میں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ان کو اس قدر اہمیت دینے کی کیا وجہ ہے؟ تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایک باغی گروہ ان کو قتل کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت مسلمہ دو گروہوں میں بٹ گئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، ان دو گروہوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بر حق تھی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہادی معاملہ بغاوت اور خطا پر مبنی تھا، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور جنگ صفین میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کے ہاتھوں شہید ہو گئے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہو گئی کہ وہ باغی گروہ کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔