حدیث نمبر: 11849
عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَلَامٌ، فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ، فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهُ وَلَا يَزِيدُ إِلَّا غِلْظَةً، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ، فَبَكَى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، قَالَ: ”مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ“، قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ، فَلَقِيتُهُ فَرَضِيَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مابین کچھ تکرار ہوگئی،میں نے ان سے کچھ سخت باتیں کہہ دیں۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ میری شکایت کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے، ان کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بھی ان کی شکایت کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئے اور ان کے متعلق سخت باتیں کرنے لگے، ان کی باتوں کی شدت بڑھتی ہی جاتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش تھے، کوئی کلام نہیں کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر عمار رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا آپ دیکھتے نہیں یہ کیا کچھ کہہ رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا: جو شخص عمار سے عداوت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے عداوت رکھے گا اور جو کوئی عمار سے بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے واپس ہوا تو میری نظروں میں سب سے اہم اور پسندیدہ بات یہی تھی کہ عمار رضی اللہ عنہ مجھ سے راضی ہو جائیں، چنانچہ میں نے جا کر ان سے ملاقات کی اور وہ مجھ سے راضی ہوگئے۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں:میں نے یہ حدیث اپنے والدسے دو مرتبہ سنی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ صحابی ہیں،یہ اور ان کے والدین پہلے پہل ایمان لانے والوں میں سے ہیں، اس گھرانے کو اسلام قبول کرنے کے جرم میں بہت سے مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا، بعض اوقات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کو عذاب دیا جاتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی صبر کیا اور ان کو بھی صبر کرنے کی تلقین کی، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور تمام غزوات میں شریک رہے، جنگ یمامہ میں ان کا ایک کان کام آیا، امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کوفہ کا عامل مقرر فرمایا تھا، جنگ صفین میں امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اورتریسٹھ برس کی عمر میں۳۷ ھ میں اسی جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 120، والنسائي في الكبري : 8268، وابن حبان: 7081 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16938»