الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عُثْمَانَ بْنِ مَطْعُونَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةُ تَقُولُ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَاهُمْ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ فَاشْتَكَى عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ عِنْدَنَا فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَدْرَجْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ يَا أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ“ قَالَتْ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ مِنْ رَبِّهِ وَإِنِّي لَأَرْجُو الْخَيْرَ لَهُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي“ (قَالَ يَعْقُوبُ بِهِ) قَالَتْ وَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا فَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ذَاكَ عَمَلُهُ“سیدنا خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام علاء انصاریہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ جب مہاجرین ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو انصار نے ان کو اپنے ہاں رہائش دینے کے لیے قرعہ اندازی کی تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے حصہ میں نکل آیا، لیکن ہوا یوں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں بیمار پڑ گئے۔ ہم نے ان کا خوب علاج معالجہ کیا،، لیکن ان کا انتقال ہو گیا،ہم نے ان کو کفن کے کپڑوں میں لپیٹا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ میں نے کہا: اے ابو السائب! آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میں آپ کے بارے میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو عزت و تکریم سے نوازا ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کو کیا علم کہ اللہ نے ان کی عزت و تکریم کی ہے۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں، میں تو اس بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے رب کی طرف سے موت آئی، مجھے اس کے بارے میں اللہ سے خیر کی امید ہے۔ اللہ کی قسم! میں اگرچہ اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں بھی نہیں جانتا کہ کل کلاں میرے ساتھ اور اس کے ساتھ کیا پیش آئے گا؟ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں آج کے بعد کسی کی صفائی پیش نہیں کروں گی، اس بات سے مجھے غم لاحق ہوا، میں سوئی ہوئی تھی کہ خواب میں مجھے ایک بہتا چشمہ دکھایا گیا کہ یہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ کو اس کے متعلق بتلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کا عمل ہے۔