الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عُثْمَانَ بْنِ مَطْعُونَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَقَالَ وَكِيعٌ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَتْ فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ يَعْنِي عُثْمَانَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی میت کو بوسہ دیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ اس حدیث کے ایک راوی عبدالرحمن سے مروی ہے کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہار ہی تھیں۔
انھوں نے دور جاہلیت میں بھی اپنے آپ پر شراب کوحرام کر رکھا تھا۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ (وَفِي رِوَايَةٍ رُقَيَّةُ) ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ“سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (یا سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا ) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم جا کر ہمارے بہترین پیش رو عثمان بن مظعون سے جا ملو۔