حدیث نمبر: 11836
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَعَ فِي أَبٍ لِلْعَبَّاسِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ فَجَاءَ قَوْمُهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ لَنَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ فَلَبِسُوا السِّلَاحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ ”أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ“ قَالُوا أَنْتَ قَالَ ”فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ فَلَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا“ فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے والد پر طنز کیا، وہ دورِ جاہلیت میں فوت ہو گئے تھے، عباس رضی اللہ عنہ نے (طیش میں آکر) اسے تھپڑ رسید کر دیا،انصاری کی قوم کے لوگ آگئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم، جس طرح اس نے تھپڑ مارا ہے، ہم بھی بدلے میں اسے ضرور تھپڑ ماریں گے، وہ لوگ اسلحہ سے مسلح ہو کر آ گئے۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: لوگو! روئے زمین کے لوگوں میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ معزز کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا: جی آپ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر عباس میرا ہے اور میں عباس کا ہوں، تم ہمارے فوت شدہ لوگوں کو برا بھلا کہہ کر ہمارے زندہ لوگوں کو ایذا نہ پہنچاؤ۔ پھر ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے غصہ اور ناراضگی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11836
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعّفه احمد وابوزرعة وابو حاتم والنسائي وابن معين وغيرھم أخرجه الترمذي: 3749، والنسائي: 8/ 33 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2734»