الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودِ الشَّهِيرِ بِابْنِ أم عبدرَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ عِنْدَهُ فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ“ فَبَدَأَ بِهِ ”وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ“مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جایا کرتے اور ان کے ہاں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے، ہم نے ایک دن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا: تم نے ایک ایسے آدمی کا نام لے دیا ہے کہ میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، تب سے میں اس سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے: تم لوگ چار آدمیوں سے قرآن کا علم حاصل کرو، ابن ام عبد، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔