الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودِ الشَّهِيرِ بِابْنِ أم عبدرَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11831
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي بِسَوَادِي سِرِّي قَالَ أَذِنَ لَهُ أَنْ يَسْمَعَ سِرَّهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پردہ کو اٹھا دیا جانا تمہارے لیے آگے آجانے کی اجازت کے مترادف ہے اور تم میری راز کی باتوں کو سننے کے بھی مجازہو، یہاں تک کہ میں تمہیں اس سے روک دوں۔ ابوعبدالرحمن نے کہا: سِوَاد کا معنی راز ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں راز کی باتیں سننے کی اجازت دے رکھی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … کسی کو اجازت دینے کے لیے کوئی علامت مقرر کی جا سکتی ہے۔