حدیث نمبر: 11830
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ فَقُلْنَا دُلَّنَا عَلَى أَقْرَبِ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَسَمْتًا وَوَلَاءً نَأْخُذْ عَنْهُ وَنَسْمَعْ مِنْهُ فَقَالَ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَسَمْتًا وَدَلًّا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ حَتَّى يَتَوَارَى عَنِّي فِي بَيْتِهِ وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَةً (وَفِي رِوَايَةٍ وَسِيلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبدالرحمن بن یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور ہم نے کہا آپ ہمیں کسی ایسے آدمی کی طرف راہ نمائی کریں جو اپنی سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہو، تاکہ ہم اس سے کچھ حاصل کر سکیں اور اس سے احادیث کا سماع کر سکیں،انہوں نے کہا:سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبداللہ بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہیں،یہاں تک کہ وہ گھر داخل ہو جائیں (یعنی ان کے گھر سے باہر کے تمام معمولات سنت نبوی کے مطابق ہوتے ہیں اور میں ان کے گھر کے اندرونی معمولات نہیں جانتا۔)ایک روایت میں یوں ہے:تم جس قسم کے آدمی کے متعلق پوچھتے ہو تو ایسا شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی ہے، گھر سے باہر آکر گھر جانے تک اس کے تمام معمولات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات کے مطابق ہوتے ہیں، اب میں یہ نہیں جانتا کہ گھر کے اندر ان کے معمولات کیا ہوتے ہیں؟ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے اہل علم جانتے ہیں کہ ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں سے اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قیامت کے دن ان سب سے بڑھ کر اللہ کے مقرب ہوں گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11830
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23732»