الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودِ الشَّهِيرِ بِابْنِ أم عبدرَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي فَقَالَ ”سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ“ فَابْتَدَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ عُمَرُ مَا بَادَرَنِي أَبُو بَكْرٍ إِلَى شَيْءٍ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلَاهُ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ مِنْ دُعَائِي الَّذِي لَا أَكَادُ أَدَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نماز ادا کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! تو جو چاہے دعا کر تجھے عطا کیا جائے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس خوشی سے آگاہ کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جس کام میں بھی میرے ساتھ مقابلہ کیا تو وہ مجھ سے سبقت لے گئے۔دونوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ انہوں نے اس رات کو کیا دعا کی تھی، انھوں نے بتلایا کہ میں نے وہ دعا کی تھی، جس کو میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں، میں نے کہا تھا: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ نَعِیمًا لَا یَبِیدُ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مُحَمَّدٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ جَنَّۃِ الْخُلْدِ۔ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں،آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں، جو کبھی ختم نہ ہوں او ر جنت کے اعلیٰ مقامات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ چاہتا ہوں۔)