حدیث نمبر: 11825
عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَسَحَلَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ“ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَسْأَلُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ“ فَقَالَ فِيمَا سَأَلَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ قَالَ فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَبْدَ اللَّهَ لِيُبَشِّرَهُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ سَبَقَهُ فَقَالَ إِنْ فَعَلْتَ لَقَدْ كُنْتَ سَبَّاقًا بِالْخَيْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رات کو نماز ادا کر رہے تھے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، انھوں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی اور اس کی مکمل تلاوت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قرآن کو اسی طرح پڑھنا چاہتا ہو، جیسا کہ وہ نازل ہواتھا تو وہ ابن ام عبد یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کے مطابق تلاوت کیا کرے۔ پھر وہ آگے بڑھے اور سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سوال کرنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے : تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ تو انہوں نے اپنی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی کی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ إِیمَانًا لَا یَرْتَدُّ، وَنَعِیمًا لَا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی أَعْلٰی جَنَّۃِ الْخُلْدِ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کی دعا کرتا ہوں جو مجھ سے واپس نہ جائے، ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں اور میں تجھ سے ہمیشہ والی جنت کے اعلیٰ مقامات میں تیرے نبی کاساتھ چاہتا ہوں۔) اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کو بشارت دینے کے لیے آئے تو انھوں نے دیکھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بارے میں ان سے سبقت لے جا چکے تھے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ آپ نے یہ کام کیا ہے، مگر صورتحال یہ ہے کہ آپ ہر اچھے کام میں سبقت لے جاتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کی ترجیح کے لیے دیکھیں احادیث نمبر (۸۴۴۹،۸۳۷۸)
صحابۂ کرام ایک دوسرے کو خوشخبری دینے اور خوش کرنے کے بڑے حریص تھے، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما جیسے عظیم صحابہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خوش کرنے کے درپے ہیں، اسلامی تعلق اور دینی محبت کا یہی تقاضا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11825
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بشواهده، اخرجه ابن ماجه: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4255»