حدیث نمبر: 11824
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَمِ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تا حیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپناعامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قبیلہ بنوہذیل کے فرد تھے، آغاز اسلام میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی پہلے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے، اولأحبشہ کی طرف اور بعد میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے، غزوۂ بدر، احد، خندق، بیعت رضوان اور دیگر مواقع میں شریک رہے، اکثر و بیشتر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گزارا کرتے، بڑے اور فقیہ صحابۂ کرام میں ان کا شمار ہوتا ہے، ایک قول کے مطابق (۳۲) سن ہجری میں ان کی وفات کو فہ میں اور دوسرے قول کے مطابق مدینہ منور ہ میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر چونسٹھ پینسٹھ برس تھی۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قرآن کریم کے بہت بڑے عالم اور ماہر تھے، وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں قرآن کریم کی ہر ہر سورت کے متعلق جانتا ہوں کہ یہ کب اور کہاں نازل ہوئی، اگر مجھے پتہ چلے کہ کوئی آدمی مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا علم رکھتا ہے اور وہاں اونٹ پہنچ سکتے ہوں تو میں اس آدمی کی طرف سفر کرکے اس سے علم حاصل کروں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11824
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن عاص، اخرجه بنحوه النسائي في الكبري : 9274، والحاكم: 3/ 392 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17960»