حدیث نمبر: 11822
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ فَقُلْنَ اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ فَادْفِنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ قَالَ فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ فَدَعَانِي وَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ“ فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد کی غزوۂ احد میں شہادت ہوئی، میری بہنوں نے اپنا اونٹ دے کر مجھے بھیجا کہ اپنے والد کی میت کو اس اونٹ پر لاد کر قبیلہ بنو سلمہ کے قبرستان میں دفن کروں، پس میں اور میرے ساتھی گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احد کے مقام پر بیٹھے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے ارادے کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوا کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہارے باپ کو اس کے دوسرے شہید بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیاجائے گا۔ چنانچہ ان کو احد ہی میں دوسرے شہداء کے ساتھ دفن کیا گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11822
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عمر بن سلمة بن ابي يزيد وابوه مجھولان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15331»