الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامِ نِ الْأَنْصَارِيِّ وَالِدِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا باب: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11821
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا جَابِرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحْيَا أَبَاكَ فَقَالَ لَهُ تَمَنَّ عَلَيَّ فَقَالَ أُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ إِنِّي قَضَيْتُ الْحُكْمَ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جابر! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کرکے اس سے فرمایا: تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہیں دوں گا۔ تیرے والد نے کہا: مجھے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے، تاکہ میں دوبارہ شہیدہو سکوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی بڑی منقبت ہے، سبحان اللہ! وہ کتنا خوش بخت بیٹا تھا کہ جس کے سامنے اس کے باپ کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں کیا۔ یا اللہ! ہمارے والدین سے بھی راضی ہو جانا، وہ اس مرتبے کے تو نہیں ہیں، لیکن تیری رحمت بہت وسیع ہے۔