حدیث نمبر: 11815
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ فَقَالُوا إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا حَقٌّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اللہ کے رسول سے جو کچھ سنتا،اسے حفظ کرنے کی غرض سے لکھ لیتا تھا،لیکن قریش نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا: تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنتے ہو لکھ لیتے ہو، حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر ہیں، آپ کبھی غصے کی حالت میں بات کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی معمول کی حالت میں۔ چنانچہ میں نے آپ کی باتیں لکھنا چھوڑ دیں، لیکن جب میں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لکھ لیا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میرے منہ سے حق کے سوا کوئی بات ادا نہیں ہوتی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11815
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 3646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6510»