الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا باب: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُهُ فِي لَيْلَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ وَأَنْ تَمَلَّ اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ شَهْرٍ“ قُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي قَالَ ”اقْرَأْ بِهِ فِي عِشْرِينَ“ قُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ ”اقْرَأْ بِهِ فِي عَشَرٍ“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ ”اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ سَبْعٍ“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي فَأَبَىیحییٰ بن حکیم بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا کہ میں نے پورا قرآن مجید حفظ کیا اور پھر ایک ہی رات میں اسے پڑھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ زمانہ تجھ پر لمبا ہو جائے گا اور تو اکتاہٹ کا شکار ہو جائے گا، اس لیے ایک ماہ میں قرآن مجید مکمل کر۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیس دن میں قرآن مکمل پڑھ لو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس دن میں پڑھ لو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں۔ آپ نے فرمایا: سات دن میں قرآن مکمل کرلو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کم مدت میں قرآنِ مجید ختم کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔