حدیث نمبر: 11811
عَنْ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے گھر کے افراد عبداللہ، ابو عبداللہ اور ام عبداللہ سب ہی اچھے لوگ ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص قریشی سہمی رضی اللہ عنہ ایک زاہد اور عبات گزار صحابی تھے، ان کے باپ بھی صحابی ہیں، ان کی اور ان کے باپ کی عمر میں صرف گیارہیا بارہ برسوںکا فاصلہ تھا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے باپ نے بہت جلد شادی کر لی تھی، ان کی ماں سیدہ ریطہ رضی اللہ عنہا بھی مسلمان ہوگئی تھیں۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے، وہ ایک وسیع العلم، بڑے عبادت گزار، کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ حدیث اور علم حاصل کرنے والے تھے۔
یہ اپنے باپ کے ساتھ شام کی فتح میں موجود تھے، بلکہ جنگ یرموک میں ان کے باپ کا جھنڈا ان کے پاس تھا، یہ مصر میں (۷۲) برس کی عمر میں (۶۵) سن ہجری میں فوت ہوئے اور ان کو وہاں ہی دفن کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11811
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابن ابي مليكة لم يدرك طلحة بن عبيد الله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1381»