حدیث نمبر: 11810
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْئَيْنِ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ فَقَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ (وَفِي لَفْظٍ سَكْرَانَ) قَدْ شَرِبَ زَبِيبًا وَتَمْرًا قَالَ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَنَهَى أَنْ يُخْلَطَا قَالَ وَأَسْلَمَ رَجُلٌ فِي نَخْلِ رَجُلٍ فَلَمْ يَحْمِلْ نَخْلُهُ قَالَ فَأَتَاهُ يَطْلُبُهُ (فِي لَفْظٍ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ دَرَاهِمَهُ) قَالَ فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُ قَالَ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَحَمَلَتْ نَخْلُكَ“ قَالَ لَا قَالَ ”فَبِمَ تَأْكُلُ مَالَهُ“ قَالَ فَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَنَهَى عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اہل نجرا ن کے ایک آدمی سے سنا اس نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ میں آپ سے دو مسائل کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، ایک تو کھجوروں کی بیع سلم کے بارے میں (کہ کوئی شخص فصل تیار ہونے سے پہلے کھجور کے مالک سے بھاؤ وغیرہ طے کرکے کھجوروں کی بیع کر لے، کیایہ جائز ہے؟) اور دوسرا سوال منقّی اور کھجور کے متعلق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی کو پیش کیا گیا جو نشہ کی حالت میں تھا، اس نے منقّی اور کھجور کا تیار شدہ نبیذپیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر حد جاری کر دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا، ( کیونکہ ان دونوں کے اختلاط سے تیار کر دہ نبیذ بہت جلد نشہ آور ہو جاتا ہے) اور ایک آدمی نے دوسرے سے کھجوروں کی بیع سلم کی تھی، اتفاق سے کھجوروں کے درخت ثمر آور نہ ہوئے، ان کا مالک اس شخص سے اپنی طے شدہ رقم لینے آیا تو دوسرے نے ادائیگی سے انکار کیا۔ وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالک سے دریافت فرمایا: کیا تمہارے کھجوروں کے درخت ثمر آور ہوئے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم کس بنیاد پر اس کامال کھاتے ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع سلم سے اس وقت تک منع فرما دیا، جب تک پھل کی صلاحیت نمایاں نہ ہو جائے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ تمام فقہی احکام و مسائل ہیں اور متعلقہ ابواب میں گزر چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11810
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة النجراني الذي روي عنه ابوا سحاق السبيعي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5129»