الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابٌ: فَصْل فِي فَتَاوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا باب: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ مِنْ أَصْحَابِكَ مَنْ يَصْنَعُهَا قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ نَاقَتُهُعبید بن جریج سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! آپ چار ایسے کام کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھیوں میں سے کو ئی بھی وہ کام نہیں کرتا،انہوں نے کہا: ابن جریج! وہ کون سے ؟ ابن جریج نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے صرف اس کے دو یمنی کونوں کو مس کرتے ہیں،میں نے آپ نے کو دیکھا ہے کہ آپ رنگے ہوئے بغیر بالوں والے چمڑے کے جوتے استعمال کرتے ہیں،میں نے دیکھا ہے کہ آپ اپنے بالوں یا کپڑوں کو زرد رنگ سے رنگتے ہیں اور جب لوگ مکہ میں ہوں تو ذوالحجہ کا چاند دیکھتے ہی تلبیہ پڑھنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن آپ یوم الترویہ یعنی آٹھ ذوالحجہ تک تلبیہ نہیں پڑھتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے جواب میں فرمایا: جہاں تک آپ کے پہلے سوال کا تعلق ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میں اس کے صرف دو یمنی کونوں کو چھوتا ہوں اور باقی دو عراقی کونوں کو نہیں چھوتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ کے ان دو یمنی کونوں کو ہی چھوتے دیکھا ہے۔آپ کا دوسرا سوال رنگے ہوئے چمڑے کے بالوں کے بغیر جوتے کے متعلق ہے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رنگے ہوئے چمڑے کے ایسے جوتے پہنتے تھے، جن پر بال نہیں ہوتے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہی میں وضو کر لیاکرتے تھے، اس لیے میں بھی اسی قسم کے جوتے پہنا کرتا ہوں۔ باقی رہا بالوں یا کپڑوں کو زرد رنگ سے رنگنا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس رنگ سے رنگتے دیکھا ہے، اس لیے میں بھی اسی رنگ سے رنگنے کو پسند کرتا ہوں اور آپ کا تلبیہ کے متعلق سوال تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اس وقت تک تلبیہ نہیں پڑھتے تھے۔ جب تک کہ آپ کی اونٹنی سفر حج پر روانہ ہونے کے لیے اٹھ کھڑی نہ ہوتی تھی۔