حدیث نمبر: 11805
عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ“ قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں جو بھی آدمی کوئی خواب دیکھتا، وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کرتا۔ میری بھی خواہش تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کروں، میں کنوارا نوجوان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نے خواب دیکھا گویا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور مجھے جہنم کی طرف لے گئے، وہ اس طرح چنی گئی تھی جیسے کنواں چنا جاتا ہے اور اس کے اوپر (کنویں کی طرح کے) دو ستون تھے، جب میں نے اس میں دیکھا تومجھے اس میں ایسے لوگ دکھائی دیئے جن کو میں پہنچانتا تھا۔ میں ڈر کر کہنے لگا: اُعوذُ باللّٰہِ مِنَ النَّار،اُعوذُ باللّٰہِ مِنَ النَّار (میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔) ایک فرشتہ ان دونوں فرشتوں سے آ ملا، اس نے مجھ سے کہا: تم مت گھبراؤ۔ میں نے یہ خواب اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بیان کیا، جب انہوں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے، کاش کہ وہ رات کو نمازپڑھا کرے۔ سالم کہتے ہیں: اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11805
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1121، 1122، 3738،ومسلم: 2479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6330»