حدیث نمبر: 118
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذَا أَحْسَنْتُ فِي الْإِسْلَامِ أُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: ((إِذَا أَحْسَنْتَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ تُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَإِذَا أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں (اسلام قبول کر کے) اس دین میں نیکیاں کرتا رہوں تو کیا جاہلیت والی میری برائیوں کی وجہ سے میرا مواخذہ ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرے گا تو جاہلیت میں جو کچھ کیا ہو گا، اس کی بنا پر تیرا مواخذہ نہیں ہو گا، لیکن اگر تو بظاہر اسلام قبول کرے گا، نہ کہ بباطن تو اگلی پچھلی یعنی ہر برائی پر مواخذہ کیا جائے گا۔“

وضاحت:
امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: اس کے بارے میں محققین کی جماعت نے جو بات کہی ہے، وہی صحیح ہے کہ احسان سے مراد بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرنا ہے، یعنی جب کوئی حقیقی مسلمان بن جاتا ہے، تو اس کی حالت ِ کفر میں کی ہوئی برائیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ قرآن و حدیث اور اجماع امت اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں۔ اور وَاِذَا اَسَاْتَ سے مراد یہ ہے کہ دل سے اسلام میں داخل نہ ہوا جائے، یہ دراصل منافق ہوتا ہے، جو اپنے کفر پر برقرار رہنے والا ہوتا ہے، ایسے شخص کی اظہارِ اسلام سے پہلے والی اور بعد والی، دونوں حالتوں کی برائیوں پر اس کا مؤاخذہ ہوتا ہے، کیونکہ در حقیقت اس کے کفرکی حالت ہی جاری رہتی ہے۔ (شرح مسلم للنووی: ۲/ ۱۳۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 118
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6921، ومسلم: 120 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3596»