حدیث نمبر: 11796
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ لِي أَبِي أَيْ بُنَيَّ أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي فَقُلْتُ يَا أَبَتِ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”فَإِنَّ ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ کے پاس ایک اور آدمی بھی بیٹھا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سرگوشی کر رہا تھا،یوں لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کی طرف توجہ نہیں فرما رہے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے اٹھ آئے،میرے والدنے مجھ سے کہا: بیٹا! دیکھا کہ تمہارے چچا زاد (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی۔ میں نے عرض کیا: ابا جان، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک اور آدمی بیٹھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ محو کلام تھے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آگئے، اب کی بار میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں نے عبداللہ سے اس طرح بات کی اوراس نے بتلایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی بیٹھا آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے،میں ان کیوجہ سے آپ لوگوں کی طرف تو جہ نہ کر سکا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11796
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرجه الطيالسي: 2708، والطبراني: 10584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: )2679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2679»