الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا باب: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لِي: ”مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَاءِي فَتَخْنِسُ?“، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ؟ قَالَ: فَأَعْجَبْتُهُ فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ، فَقَامَ فَصَلَّى مَا أَعَادَ وُضُوءًسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کے آخری حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کی طرف کھینچ کر اپنے پہلو میں اپنے برابر کھڑا کر لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں کھسک کر کچھ پیچھے کو ہو گیا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کی تو مجھ سے فرمایا: تمہیں کیا ہوا تھا، میں نے تمہیں اپنے برابر کھڑا کیا اور تم کھسک گئے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو عظیم منصب و مرتبہ سے نوازا ہے۔ کیا (مجھ جیسے) کسی فرد کے لیے مناسب ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے؟ میری یہ بات آپ کو بہت پسندآئی، آپ نے اللہ سے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ میرے علم اور فہم میں اضافہ فرمائے۔ میں نے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس قدر گہری نیند سو گئے کہ خراٹے لینے لگے۔ اس کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو گیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر نماز ادا کی اور دوبارہ وضونہیں کیا (کیونکہ نیند میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار ہی رہتا تھا)۔