حدیث نمبر: 11784
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَةَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ، قَالَ: ”سَلْ“، قَالَ: مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ وَمِنْ أَيْنَ يُشْبِهُ الْوَلَدُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ آنِفًا، قَالَ ذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ: أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا شَبَهُ الْوَلَدِ أَبَاهُ وَأُمَّهُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ إِلَيْهِ الْوَلَدُ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ إِلَيْهَا“، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ، وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي يَبْهُتُونِي عِنْدَكَ، فَأَرْسِلْ إِلَيْهِمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي أَيُّ رَجُلٍ ابْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ؟ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: ”أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ?“، قَالُوا: خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا وَأَفْقَهُنَا وَابْنُ أَفْقَهِنَا، قَالَ: ”أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ?“، قَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا، فَقَالَ: ابْنُ سَلَامٍ هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: میں آپ سے تین باتوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، ان باتوں کو صرف نبی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پوچھو۔ انہوں نے کہا: علامات قیامت میں سب سے پہلی علامت کیا ہے، اہل جنت سب سے پہلے کون سی چیز کھائیں گے اور بچے کی اپنے ماں باپ سے مشابہت کیوں کر ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان باتوں کے متعلق جبریل علیہ السلام ابھی ابھی مجھے بتلا کر گئے ہیں، عبداللہ بن سلام نے کہا: یہ فرشتہ تو یہود کا دشمن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی اولین نشانی وہ آگ ہے، جو مشرق کی طرف سے نمودار ہوگی اور لوگوں کو جمع کرتی ہوئی مغرب کی طرف لائے گی،اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا اور بچے کی اس کے باپ یا ماں کے ساتھ مشابہت اس طرح ہوتی ہے کہ جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ مرد کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ ماں کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ یہ جوابات سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ پکار اٹھے: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔)پھر سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی لوگ بہتان طراز قسم کے لوگ ہیں، اگر انہیں میرے قبول اسلام کا پتہ چل گیا تو آپ کے پاس آکر وہ مجھ پر بہتان باندھیں گے، آپ ان کے ہاں پیغام بھیج کر ان سے میرے متعلق دریافت کرلیں کہ ان کے ہاں ابن سلام کی کیا حیثیت ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی طرف پیغام بھیج کر ان سے دریافت کیا کہ تمہارے ہاں ابن سلام کا کیا مقام ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ ہم سے بہت اچھا ہے اور بہت اچھے آدمی کا بیٹا ہے، وہ ہمارا عالم ہے اور ہمارے ایک بڑے عالم کا بیٹا ہے، وہ ہم میں سے دین کی سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والا اور سب سے زیادہ دین کو سمجھنے والے کا بیٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بتلاؤ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو کیا تم مسلمان ہو جاؤ گے؟ وہ کہنے لگے: اللہ اسے اس کام سے محفوظ رکھے۔ یہ سن کر سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ سامنے آگئے اور پکار کر کہا: اَشْہَدَ اَنْ لَّا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّداً رسولُ اللّٰہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں۔)یہ سن کر یہودی اسی وقت کہنے لگے: یہ تو ہم میں سب سے برا ہے اور سب سے برے شخص کا بیٹا ہے، یہ تو ہم میں سے جاہل اور جاہل آدمی کا بیٹا ہے، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسی بات سے ڈرتا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو قینقاع سے تھا، یہ بنو خزرج کے حلیف تھے، ایک قول کے مطابق دورِ جاہلیت میں ان کا نام حصین تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام عبد اللہ رکھا، مذہباً یہودی تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت یہ مسلمان ہو گئے،یہ (۴۳) سن ہجری میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11784
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 3329، 3938، 4480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12080»