حدیث نمبر: 11783
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ فَقَالَ: ”هَذَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور فرمایا: اس کا نام عبداللہ ہے اور (عائشہ!) تم ام عبداللہ ہو۔

وضاحت:
فوائد: … یہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی اولاد نہیں تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بھانجے کے نام پہ ان کی کنیت رکھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11783
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 4970 وقولھا: فحنكه بتمرة أخرجه البخاري: 3910، ومسلم: 2148 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25126»